قانون تقلیل افادہ مختتم

قانون تقلیل افادہ مختتم

قانون تقلیل افادہ مختتم معاشیات کا ایک اہم اور عالمگیر قانون ہے۔ یہ قانون انسانی زندگی کی بنیادی حقیقت کو بیان کرتا ہے جس کا مشاہدہ اور تجربہ ہر انسان اپنی روز مرہ عملی زندگی میں کرتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ابتدا میں کسی چیز کو حاصل کرنے کی خواہش انتہائی شدید ہوتی ہے۔ لیکن شے کے مسلسل استعمال سے اس کو حاصل کرنے کی شدت اور افادہ میں بتدریج کمی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہمیں پیاس لگی ہے تو ایسے میں ہمیں پانی کا پہلا گلاس پیاس کی شدت کی وجہ سے بہت تسکین دے گا۔ لیکن دوسرا گلاس پینے سے اتنی تسکین یا افادہ حاصل نہیں ہوگا جتنا پہلے گلاس کے پینے سے ہوا تھا ۔ اسی طرح تیسرے اور چوتھے گلاس سے افادہ پہلے کی نسبت بتدریج کم ہوتا چلا جائے گا اور ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب مزید پانی کا گلاس پینے کی خواہش ختم ہو جائے گی اور پانچویں گلاس کو پینے سے صفر افادہ حاصل ہوگا لیکن اگر ہمیں چھٹا گلاس بھی پینے پر مجبور کیا جائے تو چھٹے گلاس کا افادہ منفی ہو جائے گا یعنی فائدے کی بجائے الٹا نقصان دہ ثابت ہوگا ۔ حیات انسانی کے اسی عملی مشاہدے کو ماہرین معاشیات قانون تقلیل افادہ مختم کا نام دیتے ہیں۔

سادہ الفاظ میں قانون تقلیل افادہ مختم سے مراد ۔

“Other things being equal, when a consumer continuously uses any commodity, the marginal utility of every new or successive unit will be less than the marginal utility of the previous unit”

جب کسی شے کا مسلسل اور لگا تار استعمال کیا جائے تو ہر اگلی اکائی کا مختم افادہ بتدریج کم ہوتا چلا جاتا ہے حتی کہ صفر ہو جاتا ہے۔ اگر اس کے بعد بھی استعمال جاری رکھا جائے تو افادہ منفی ہو جاتا ہے۔ جبکہ باقی حالات بدستور رہیں ۔

الفرڈ مارشل نے اس قانون کی تعریف ان الفاظ میں کی۔

“Other things remaining the same, when a person has more of a commodity the marginal utility becomes smaller with the additional consumption”

باقی حالات بدستور رہتے ہوئے جب کسی شخص کے پاس کسی شے کا ذخیرہ بڑھ جائے تو اس شے میں مزید اضافہ اس شے کے افادہ مختم میں کمی کا موجب بن جاتا ہے۔

قانون تقلیل افادہ مختم کی وضاحت درج ذیل گوشوارہ کی مدد سے بھی کی جاسکتی ہے۔

قانون تقلیل افادہ مختتم
                                                         گوشوارہ

گوشوارے کی وضاحت

گوشوارہ کے پہلے کالم میں پانی کے گلاس کی اکائیاں ، دوسرے کالم میں کل افادہ اور آخری کالم میں مختم افادہ دکھایا گیا ہے۔ گوشوارہ سے واضح ہے کہ شے کے مسلسل استعمال سے مختم افادہ بتدریج گھٹتا جا رہا ہے۔ ایک ایسی حد بھی آتی ہے جہاں صارف شے کے استعمال کو ترک کر دیتا ہے اور مختم افادہ صفر کے برابر ہو جاتا ہے۔ یہی صارف کا نقطہ میری کہلاتا ہے۔ اس نقطہ کے بعد اگر صارف کو پانی کا چھٹا گلاس پینے پر مجبور کیا جائے تو مختم افادہ منفی ہو جاتا ہے جیسا کہ 4۔ افادہ سے ظاہر ہے۔

ڈائیگرام میں OX محور کے ساتھ اکائیاں اور OY محور کے ساتھ ختم افادہ کی پیائش کی گئی ہے۔ ڈائیگرام سے ظاہر ہے کہ اکائیوں کے مسلسل استعمال سے مختم افادہ مسلسل گرتا جارہا ہے۔ جیسا کہ نقطہ پر صارف 16 افادہ حاصل کرتا ہے۔ حسین اس کے ۸ بعد نقطہ C.B اور Dپر مختم افادہ بتدریج کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ لیکن نقطہ پر صفر ہو جاتا ہے اور F پر حنفی ہو جاتا ہے۔ نقاط E,D.C.B.A اور F کو ملانے سے خط مختم افادہ حاصل ہوتا ہے۔

قانون تقلیل افادہ مختتم

مفروضات

قانون قلیل افادہ مختم تمام حالات میں درست ثابت نہیں ہوتا بکہ کچھ حالات میں قانون کو درست ثابت کرنے کے لیے ۔ مفروضات یا کچھ باتیں فرض کر لی جاتی ہیں۔ ورنہ قانون صح لاگو ہیں ہوتا۔ قانون تقلیل افادہ ختم کے درج ذیل مفروضات ہیں۔ ۔

شے کا مسلسل استعمال

قانون کو صحیح ثابت کرنے کیلے فرض کیا گیا ہے کہ استعمال کی جانے والی شے یا اکائی کے استعمال کے درمیان کوئی وقفہ نہیں ۔ آئے گا اور استعمال مسلسل ہوگا۔ کیونکہ زیر استعمال اکائیوں کے درمیان وقفہ افادہ مختم کو بڑھانے کا موجب بن سکتا ہے۔ مثال (1) کے طور پر اگر ہم گرمیوں میں پانی کا ایک گلاس صبح کے وقت نہیں اور دوسرا گلاس دو پہر کو تو یقینا دوسرے گلاس کا افادہ پہلے گلاس کیا نسبت کہیں زیادہ ہوگا کیونکہ دوپہر کو زیادہ پیاس محسوس ہوتی ہے اور قانون غلط ثابت ہو جائے گا۔ اس لیے پانی کے گلاس کے بعد دیگرے بغیر کسی وقفے کے پینے ہونگے ۔

شے کی مناسب مقدار

صرف کی جانے والی شے کی مقدار مناسب اور معقول ہونی چاہیے اگر شے کی اکائیوں کی مقدار انتہائی قلیل یا بہت زیادہ ہوتا قانون صحیح ثابت نہیں ہوگا۔ کیونکہ پانی پیتے وقت اگر گلاس کی بجائے قطرے پیئے جائیں تو ہر دوسرا قطرہ زیادہ افادہ کا باعث بنے گا اور اگر پانی کا پورا جگ منہ کو لگالیا جائے تو دوسرا جگ پینے کی ہمت باقی نہیں رہے گی ۔ اس لیے قانون کی درستگی کے لیے پانی کے ایک گلاس کو مناسب اکائی تصور کیا گیا ہے۔

شے کی نوعیت

صرف کی جانے والی تمام اشیا وزن، حجم، کوالٹی اور خصوصیت کے اعتبار سے بالکل ایک جیسی ہونی چاہئیں ورنہ قانون غلط ثابت ہو جائے گا۔ مثلا پانی پیتے وقت پہلا گلاس سادہ پانی کا ہو اور دوسرا اعلیٰ قسم کا مشروب ہو تو یقیناً دوسرے گلاس کا افادہ پہلے گلاس کی نسبت زیادہ ہوگا اور مختم افادہ گرنے کی بجائے بڑھ سکتا ہے۔

صارف کی پہنی کیفیت

قانون کو لاگو کرنے کے لیے فرض کیا گیا ہے کہ شے کے استعمال کے دوران صارف کی پہنی کیفیت تبدیل نہیں ہوئی چاہیے۔ مثال کے طور پر آم کھاتے وقت اگر آم کی دوسری اکائی پر آپ کو بتایا جائے کہ آم تو آپ کی صحت کے لیے ٹھیک نہیں تو دوسرے آم کا افادہ یک دم ختم ہو جائے گا اور قانون کا اطلاق رک جائے گا۔

صارف کی آمدنی

صارف کی آمدنی میں کمی یا بیشی صارف کے نقطہ نظر اور صرفی منصوبے کو تبدیل کر سکتی ہے۔ اس لیے فرض کیا گیا ہے کہ صارف کی آمدنی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی۔ مثال کے طور پر آمدنی میں اضافے کی صورت میں صارف کا عام اشیا دودھ ، دال، سبزی کے لیے تو افادہ مختم گر جاتا ہے لیکن اس کے برعکس بڑھیا اشیا کے لیے افادہ مختم بڑھ جاتا ہے۔

مستثنیات یا حدود 

مستثنیات قانون کی وہ حد بندیاں ہوتی ہیں جن پر قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ یعنی ان صورتوں کو قانون کے دائرے سے مستثنی سمجھا جاتا ہے۔ یہ درج ذیل ہیں۔

 علم و مطالعہ

علم اور مطالعہ حاصل کرنے کی انسانی خواہش کبھی بھی کم نہیں ہوتی بلکہ علم کے درجات بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسان کے اندر مزید علم حاصل کرنے کی جستجو بڑھتی چلی جاتی ہے اور انسان مختلف علوم کے مطالعہ سے استفادہ کرتا ہے۔ اس لیے علم حاصل کرنے کی مزید جستجو کی صورت میں قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔

مال وزر

ذرائع کی کمیابی کی وجہ سے مال و زر کا حصول ہر انسان کے لیے اپنے اندر یہ وصف رکھتا ہے کہ جیسے جیسے انسان کے پا دولت بڑھتی چلی جاتی ہے اس کی دولت کے لیے خواہش مزید بڑھتی چلی جاتی ہے اور دولت کے مزید حصول میں اس کا افادہ بڑھت چلا جاتا ہے۔

تاریخی نوادرات

کچھ لوگ تاریخی نوادرات اکٹھا کرنے کے بہت شوقین ہوتے ہیں۔ لہذا تاریخی نوادرات کی تعداد میں اضافے سے ان کو مزید حاصل کرنے کی خواہش کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ مثلا قدیم سکے، پرانی ٹکٹیں وغیرہ۔

محمود و نمائش

انسان کے اندر فطری طور پر خودنمائی اور نمائش کا جذ بہ موجود ہوتا ہے اس لیے وہ اپنے حسن و جمال کی جانب زیادہ توجہ دیتا ہے خصوصا فیشن کے دلدادہ افراد کے اندر نمود و نمائش کا جذ بہ جدید فیشن کے اختراع کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس طرح قانون کا اطلاق ممکن نہیں رہتا۔

منشیات

کچھ لوگ نشہ آور اشیا مثلاً تمباکو، افیون اور دیگر معر اشیا استعمال کرنے کے بڑے دلدادہ ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ جتنا ان اشیا کو استعمال کرتے ہیں اتنا زیادہ اس میں وہ تسکین محسوس کرتے ہیں۔ لہذا ایسی اشیا کے استعمال کے لیے ان کی خواہش بڑھتی چلتی جاتی ہے۔

فنون لطیفہ

ہر فنکار اپنے فن کو منوانے اور شہرت حاصل کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے اس لیے وہ جتنا فن حاصل کرنے میں کمال حاصل کرتا ہے اس کی خواہش بڑھتی چلی جاتی ہے۔ لہذا اس قانون کا فن حاصل کرنے کی صورت میں بھی اطلاق نہیں ہوتا۔

عملی اہمیت

قانون تقلیل افاده مختم کیونکہ انسانی زندگی کا عملی مشاہدہ ہے اس لیے اس کا ہماری معاشی زندگی میں بہت اہم کردار ہے۔ کی اہمیت درج ذیل نکات سے واضح ہو جاتی ہے۔

  1. قانون طلب کی بنیاد تقلیل افادہ مختم کے اصول پر رکھی گئی ہے کیونکہ زائد اکائیوں کا افادہ کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس لیے پہلی اکائی کے مقابلے میں صارف اگلی اکائی کی کم قیمت دینے پر رضا مند ہوتا ہے ۔ گویا صارف کسی شے کی مزید اکائیاں صرف اسی صورت میں خریدتا ہے جب اس کی قیمت کم کر دی جائے لہذا تقلیل فادہ مختم کا اصول قانون طلب کی بنیاد ہے۔
  2. روز مرہ زندگی میں جب کوئی صارف کوئی شے خریدتا ہے تو قیمت ادا کرتے وقت اس کے مختم افادہ پر نظر رکھتا ہے۔ اگر اس شے کا افادہ اس کی قیمت سے گر جائے تو وہ اس شے کی خرید ترک کر دیتا ہے اور وہ چیز خریدتا ہے جس کا افادہ اس کی قیمت کے برابر ہو جائے۔
  3. ٹیکس عائد کرنے کے سلسلے میں قانون تقلیل افادہ مختتم کے اصول کو استعمال کیا جاتا ہے۔ حکومت اس اصول کے تحت امیروں پر ٹیکس کی زیادہ شرح اور غریبوں پر کم شرح عائد کرتی ہے کیونکہ امیروں کے نزدیک زر کا افادہ مختم کم ہوتا ہے۔
  4. مقاصد دولت کی مساوی تقسیم بھی اسی اصول کے تحت ممکن ہے کیونکہ اسی قانون کو پیش نظر رکھتے ہوئے ٹیکسوں کے نظام میں اس قسم کی تبدیلیاں لائی جاتی ہیں کہ دولت کی مساوی تقسیم ممکن ہو سکے ، معاشرہ خوشحال ہو جائے اور اشیا ضرورت سب کو میسر ہوں۔

 

ہم أمید کرتے ہیں آپ کو “قانون “تقلیل افادہ مختتم”  کے بارے میں مکمل آگاہی مل گئی ہوگی۔۔۔

افادہ

معاشیات کی نوعیت اور وسعت

MUASHYAAAT.COM 👈🏻مزید معلومات کیلئے ہمارے اس لنک پر کلک کریں

 

ہماری ویب سائٹ پر آنے کیلئے شکریہ

MUASHYAAAT.COM

Leave a comment