معاشیات کی نوعیت اور وسعت

معاشیات کی نوعیت اور وسعت

معاشی جدو جہد کا پس منظر

معاشیات کی نوعیت اور وسعت انسان نے جب سے اس کرہ ارض پر قدم رکھا اس کو اپنی زندگی کی بقا اور سلامتی کے لیے بنیادی ضرورتوں  مثلا خوراک، لباس اور رہائش کے حصول کیلئے جدوجہد کرنی پڑی. لیکن انسان کی یہ جدو جہد وسائل کی قلت کے باعث وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف کٹھن بلکہ پیچیدہ ہوتی چلی گئی۔ اس لیے آج بھی انسان کی تمام تر تگ و دو بنیادی ضرورتوں کے حصول کے لیے ہے جو ساری عمر اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ کیونکہ بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے وسائل کمیاب ہیں اس لیے ایسے حالات میں علم معاشیات نے انسان کے اندر یہ سوجھ بوجھ پیدا کی کہ کسی طرح کم وسائل کے ہوتے ہوئے انسان اپنی زیادہ سے زیادہ ضرورتوں کی تکمیل کر سکتا ہے۔

معاشیات کی نوعیت اور وسعت

انسانی احتیاجات 

ان سے مراد وہ احتیاجات ہیں جن پر ضروریات زندگی کا دارو مدار ہے۔ انسان کی یہ احتیاجات بے شمار اور ان گنت ہیں۔ بنیادی طور پر خوراک، لباس اور رہائش کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ زندگی میں آرام و آسائش مہیا کرنے والی اشیا ( مثلا فرنیچر، سائیکل ، ٹیلی ویژن، ائیر کنڈیشنر ، کار قلم وغیرہ) اور خدمات (مثلاً ڈاکٹر، وکیل، استاد وغیرہ کی خدمات ) بھی زندگی کے لیے لازمی جزو ہیں۔ انسان کی خواہشات بے شمار ہیں جن کو پورا کرنے کے لیے انسان ساری بھاگ دوڑ کر رہا ہے۔ یہ بھاگ دوڑ تادم مرگ جاری رہتی ہے۔ اس لیے معاشی جدو جہد کا نقطہ آغاز انسانی خواہشات کا حصول اور جدوجہد کا محرک خواہشات کی تسکین ہے۔ انسانی احتیاجات کی دو اہم اقسام ہیں:

غیر معاشی احتیاجات

معاشی احتیاجات 

غیر معاشی احتیاجات

انسان کی بعض احتیاجات ایسی ہوتی ہیں جن کو حاصل کرنے کے لیے روپیہ پیسہ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ مثال کے طور پر دوستی کرنا، سیر کرنا ، آرام کرنا اور کچھ اللہ تعالی کی طرف سے انسان کو مفت دستیاب ہوتی ہیں مثلاً پانی ، دھوپ، روشنی وغیرہ۔ ایسی تمام احتیاجات کو علم معاشیات میں غیر معاشی احتیاجات کہتے ہیں۔ معاشیات کے علم سے ان کا کوئی واسطہ نہیں کیونکہ معاشیات میں صرف وہ مسائل یا مقاصد زیر بحث آتے ہیں جن کی انسان کو قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

معاشی احتیاجات 

ایسی احتیاجات جن کو حاصل کرنے کیلئے روپیہ پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے معاشی احتیاجات کہلاتی ہیں ۔ مثال کے طور پر بھوک منانے کیلئے خوراک، جسم ڈھاپنے کے لیے لباس، سر چھپانے کے لیے چھت دلیرہ کے حصول کیلئے جد و جہد معاشی احتیاجات کے زمرے میں آتی ہیں اور انسان کو ان کی تحمیل پر مادی وسائل یا روپیہ پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ ایسی احتیاجات کو معاشی احتیاجات کہتے ہیں۔ یاد رہے علم معاشیات میں ہمارا تعلق صرف معاشی احتیاجات سے ہے۔

معاشیات کی نوعیت اور وسعت

 معاشی احتیاجات کی خصوصیات

معاشی احتیاجات میں درج ذیل خصوصیات مشترک پائی جاتی ہیں۔

لامحمدود احتیاجات 

انسان کی خواہشات لامحدود ہیں جبکہ ان کو پورا کرنے کے لیے مادی ذرائع محدود ہیں۔ اس لیے کوئی شخص یہ دھوئی نہیں کر سکتا کہ اس کی تمام خواہشات پوری ہوگئی ہیں۔ ویسے بھی جب ہم ایک خواہش پوری کرتے ہیں تو کوئی دوسری خواہش جنم لے لیتی ہے اور یہ سلسلہ انسان کی ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ مثلاً روز مرہ کے بنیادی لوازمات یعنی خوراک، مکان، قلم، آنا وغیرہ کی ضرورت آئے دن محسوس ہوتی رہتی ہے۔

معاشیات کی نوعیت اور وسعت

 احتیاجات میں باہمی مقابلہ

احتیاجات ایک دوسرے سے باہمی مقابلہ کرتی ہیں ۔ کیونکہ تمام خواہشات ایک جیسی نوعیت و اہمیت کی حامل نہیں ہوتیں۔ کچھ خواہشات زیادہ اہم اور ضروری ہوتی ہیں مثلا خوراک، کپڑا گھر وغیرہ اور کچھ کم اہم مثلاً کار، ائیر کنڈیشنر وغیرہ جن کو کچھ وقت کے لیے ملتوی کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے انسان خواہشات کی اہمیت اور ضرورت کے مطابق ترجیحات مقرر کرتا ہے۔

خواہشات کا بار بار جنم لینا 

انسان کی اکثر خواہشات بار بار جنم لیتی ہیں۔ اس لیے انہیں ہر بار پورا کرنا پڑتا ہے مثلاً آنا تھی، چینی، دودھ وغیرہ۔ اس طرح جب پیاس لگتی ہے تو ہم پانی پی لیتے ہیں لیکن کچھ دیر بعد ہم پھر پیاس محسوس کرتے ہیں اور یہ سلسلہ ساری عمر جاری رہتا ہے۔ اس لیے ایسی احتیاجات وقتی طور پر تو پوری ہو جاتی ہیں مگر کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ محسوس ہونے لگتی ہیں۔

تسکین پذیری کے متبادل طریقے

مختلف احتیاجات کو کئی طریقوں سے پورا کیا جاسکتا ہے مثلاً بھوک لگے تو ہم بھوک مٹانے کے لیے روٹی، چاول، سبزی ، دودھ، ڈبل روٹی میں سے کسی ایک سے اپنی بھوک مٹا سکتے ہیں۔ اسی طرح پیاس لگے تو پانی کی بجائے شربت یانسی سے بھی پیاس بجھائی جاسکتی ہے۔ سفر کرنے کی غرض سے دیگن، بس، کار میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ گویا ہر خواہش کو پورا کرنے کے متبادل طریقے موجود ہیں ۔

لازم و ملزوم احتیاجات 

مختلف احتیاجات ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کے بغیر پوری نہیں ہوسکتیں۔ مثلا پٹرول کے بغیر گازی، روشنائی کے بغیر قلم ، گیند کے بغیر ہا کی۔ یہ سب ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔

 اشیا و خدمات

تمام مادی اشیا (Material Goods) جو انسانی حاجات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں اشیا کہلاتی ہیں مثلا ، لباس، مکان، کار، کرسی وغیرہ۔ یہ سب انسان کی کسی نہ کسی خواہش کی تکمیل کرتی ہیں اس لیے یہ اشیا کہلاتی ہیں۔ خدمات (Services) سے مراد وہ تمام غیر مادی سرگرمیاں جو بالواسطہ طریقوں سے انسان کی حاجات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں خدمات کہلاتی ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر کا مریض کو دیکھنا اور دوا تجویز کرنا، پروفیسر کا طالب علم کو پڑھانا، وکیل کا مقدے پر بحث کرنا، انجینئر کا پل تعمیر کرنا وغیرہ سب انسان کی بالواسطہ (Indirect) فلاح و بہبود کا ذریعہ بنتی ہیں۔ جس سے انسانی حاجات کی تسکین ہوتی ہے۔

اشیا کی اقسام

اشیا کی درج ذیل اہم اقسام ہیں۔

  1. غیر معاشی اشیا
  2. معاشی اشیا
  3. اشیائے صارفین اور اشیائے سرمایہ
  4. ضروریات ، آسائشات اور تعیشات
  5. سرکاری ونجی اشیا

معاشیات کی نوعیت اور وسعت

معاشیات کی نوعیت اور وسعت

معاشیات کی نوعیت اور وسعت

غیر معاشی اشیا 

قدرت کی عطا کردہ نعمتیں مثلاً پانی، ہوا اور روشنی جن کی ہمیں کوئی قیمت ادا نہیں کرنی پڑتی، غیر معاشی اشیا کے زمرے میں آتی ہیں اور علم معاشیات کی بحث سے نکل جاتی ہیں کیونکہ معاشیات میں صرف ایسی سرگرمیاں زیر بحث لائی جاتی ہیں جن کو دولت کے زمرے میں زیر بحث لایا جاتا ہے جبکہ پانی ہوا اور روشنی حاصل کرنے کے لیے کوئی معاشی جد و جہد درکار نہیں ہوتی۔

معاشی اشیا

ایسی اشیا جن کے حصول کے لیے معاشی جدوجہد درکار ہو اور ان کی قیمت ادا کئے بغیر ان کا حصول ناممکن جو معاشی اشیا کہلاتی ہیں۔ مثلا خوراک ، لباس ، کپڑا، آٹا، گھی ، سائیکل وغیرہ ۔ کیونکہ معاشی اشیا کی طلب ان کی رسد کے مقابلہ میں زیادہ ہوتی ہے اس لیے صارف ان اشیا کو ذرائع کی کمیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے استعمال کرتا ہے۔

اشیائے صرف اور اشیائے سرمایہ 

اشیائے صرف سے مراد ایسی اشیا ہیں جو براہ راست انسانی خواہشات کو پورا کرتی ہیں مثلا روٹی، کپڑا، مکان، پھل، سبزی وغیرہ تمام اشیائے صرف کے زمرے میں آتی ہیں ۔ گویا روز مرہ زندگی میں استعمال ہونے والی تمام اشیاء اشیائے صرف کہلاتی ہیں اور فوری طور پر انسان کی حاجت کو پورا کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

اشیائے سرمایہ سے مراد وہ اشیا ہیں جو براہ راست استعمال میں آنے کی بجائے ایسی اشیا کو بنانے میں مدد دیتی ہیں جو انسانی ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں ۔ مثلاً مکان بنانے میں سیمنٹ ، پتھر، لوہا، لکڑی استعمال ہوتی ہے وہ اشیائے سرمایہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس کے علاوہ اشیائے سرمایہ میں ہر قسم کی مشینیں اور دیگر آلات شامل ہوتے ہیں جو اشیائے سرمایہ کو وجود میں لاتے ہیں۔ اشیائے صرف اور اشیائے سرمایہ کے فرق کو سمجھنے کیلئے ہم عام زندگی سے مثال دے سکتے ہیں جو بیک وقت اشیائے صرف اور اشیائے سرمایہ کے زمرے میں آتی ہیں ۔ کیونکہ یہ براہ راست خواہش کی تکمیل کا ذریعہ ہیں۔ مثال کے طور پر ایک پروفیسر کی کار اپنے ذاتی استعمال کے لیے اشیائے صرف کے زمرے میں آتی ہے۔ لیکن جب اس کار کو بطور ٹیکسی مزید آمدنی کمانے کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ اشیائے سرمایہ کے زمرے میں شمار کی جاتی ہے۔

سرکاری ونجی اشیا

سرکاری اشیا سے مراد وہ تمام اشیا ہیں جو براہ راست لوگوں کے استعمال میں آتی ہیں۔ مثلاً سڑکیں، باغات، ہسپتال، سکول وغیرہ

نجی اشیا سے مراد ایسی اشیا ہیں جو لوگوں کی ذاتی ملکیت ہوتی ہیں۔ مثلاً مکان، کار، ائیر کنڈیشنر ، فریج، فرنیچر وغیرہ۔

ضروریات ، آسائشات اور تعیشات

ضروریات سے مراد ایسی اشیا جو انسان کو زندگی کی بقا کیلئے لازمی حاصل کرنا پڑتی ہیں اور جن کے بغیر زندگی گزارنا ناممکن ہوتا ہے ۔ مثلاً پانی، روٹی اور کپڑا وغیرہ کو ضروریات کے زمرے میں لایا جاتا ہے۔ آسائشات سے مراد ایسی اشیا جو انسانی زندگی کو آرام مہیا کریں اور انسان کی کارکردگی میں اضافہ کا سبب بنیں ۔ مثلاً عمدہ خوراک ، کار، سیکھا وغیرہ ۔ تعیشات سے مراد وہ اشیا جو انسان کی زندگی کو آرام مہیا کرتی ہیں لیکن ان سے انسان کی کارکردگی میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور ان کے بغیر گزارہ کرنا ممکن ہوتا ہے مثلا ائیر کنڈیشنر، وی سی آر، قیمتی کار وغیرہ۔ یہاں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ کوئی شے استعمال کی نوعیت کے مطابق بیک وقت ضرورت، آسائش اور تعیش 5 بن سکتی ہے۔ مثلا کار ایک پروفیسر کے ذاتی استعمال کے لیے ضرورت ، ایک عام آدمی کے لیے آسائش اور ایک معمولی ملازم کے لیے قیش کا درجہ رکھتی ہے۔

قومی آمدنی کے تصورات کا باہمی تعلق

معاشیات کی نوعیت اور وسعت

ہماری ویب سائٹ پر آنے کیلئے شکریہ

ہم أمید کرتے ہیں آپ کو   اس کے  بارے میں مکمل آگاہی مل گئی ہوگی۔۔۔

MUASHYAAAT.COM

 

Leave a comment