بچوں میں شرح اموات

بچوں میں شرح امواتاس شرح کا مقصد پیدائش سے لے کر 5 سال تک کی عمر کے بچوں میں اموات کی شرح معلوم کرنا ہے در اصل یہ شرح پیدائش شیر خوار بچوں میں اموات جیسی ہی ہے جس اس میں پیدائش سے لے کر ایک سال کی عمر تک کی اموات کی شرح معلوم کی جاتی ہے اور اس بچوں میں شرح اموات کا مقصد بچوں کی پیدائش

  1. اور 5 سال تک کی عمر کے درمیان ہونے والی اموات کا جائزہ لینا ہے۔ اس کو پانچ اموات کے تحت بھی کہا جاتا ہے۔
  2. اس شرح سے کسی بھی ملک میں بچوں کی صحت کی صورتحال کے ساتھ ساتھ وہاں پر ویکسینیشن ( حفاظتی ٹیکوں ) کی دستیابی
  3. اور خوراک کی دستیابی کا بھی پتہ چلتا ہے۔

بچوں میں شرح اموات

ہیلتھ سروے

پاکستان میں 07-2006 کے پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے (مطالعہ) کے مطابق 5 سال تک کے بچوں کی اموات کی شرح 94 اموات فی ایک ہزار بچے تھی۔ اور ان میں سے 78 اموات پیدائش کے پہلے سال میں ہوئی تھیں۔ اس سروے کے مطابق شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں میں بچوں کی اموات کی شرح 28 فیصد زیادہ تھی۔ پہلے بچے کی پیدائش کے بعد ان میں اموات کی شرح زیادہ تھی۔ جب کہ بعد کے بچوں میں کم ۔ اس کے ساتھ ساتھ دو بچے جو جسمانی طور پر کمزور اور کم وزن ہوتے تھے ان میں اموات کا خطرہ کئی گنا زیادہ دیکھا گیا۔

بچوں میں اموات کی شرح

ہم 13-2012 ء کے پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کی بات کریں تو اس کے مطابق 2006ء سے 2013ء تک اس حوالے سے کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آتی ۔ کیونکہ پانچ سال تک کے بچوں میں اموات کی شرح 89 رہی یعنی ہر ایک ہزار بچوں میں 89 پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے اب بھی فوت ہو جاتے ہیں۔ اس سے اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ بچوں کی صحت ہماری حکومت اور معاشرے میں کوئی خاص ترجیح نہیں رکھتی۔ لمحہ فکر یہ ہے کہ سڑکیں اور عمارتیں تعمیر کرنے میں جتنا سرمایہ درکار ہے۔ اگر وہی ہم بچوں کی صحت بہتر بنانے پر لگا ئیں تو شاید بہتری آسکے ۔ بچوں کی اموات کا شرح ماپنے کا کلیہ کچھ یوں ہے۔

بچوں میں شرح اموات کی شرح = 5×1000  سال تک کے بچوں کی کل اموات

سال تک کے بچوں کی کل تعداد5

سال تک کے بچوں کی کل تعداد کسی حد تک بچوں کی اموات اور پیدائش کا اندراج کیا جاتا ہے کیونکہ اگر پیدائش اور بچوں کی اموات کا اندارج ٹھیک نہیں ہوگا اور دوسری طرف سروے کے دوران لوگ کھل کر بات نہیں کریں گے اور فوت شدہ بچوں کو چھپائیں سے تو اعداد و شمار قابل اعتماد نہیں ہوں گے۔

 ماؤں کی اموات کی شرح

زچگی کے دوران ماؤں کی مناسب نگہداشت اور دیکھ بھال ماں اور بچے دونوں کے لئے بہت ضروری ہے۔ زچگی کے دوران مستند ڈاکٹر سے چیک اپ اور متعلقہ بیماریوں سے حفاظتی ٹیکے اگر مناسب خوراک کے ساتھ دستیاب ہوں تو ماؤں اور پیدا ہونے والے بچوں کی صحت یقینی بنائی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ بچے کی پیدائش کے وقت مستند ڈاکٹر یا کسی تربیت یافتہ عملے کا ہونا بھی اتناہی اہم ہے۔ اس امر سے متعلقہ ایک اہم ترین مسئلہ ماؤں کی اموات کا ہے۔

 ماؤں کی اموات کی شرح

زچگی سے متعلقہ پچیدگیاں

  1. ماؤں کی اموات سے مراد کسی عورت کا زچگی سے متعلقہ پچیدگیوں
  2. یا مسائل کی وجہ سے انتقال کر جانا ہے۔
  3. ماؤں کی اموات میں عام طور پر زچگی کے عرصے کے دوران
  4. بچے کی پیدائش کے بعد 42 دن تک ہونے والی موت کو شامل کیا جاتا ہے۔
  5. لیکن یہاں یہ بات دوبارہ کرنا ضروری ہے
  6. کہ موت کی وجہ زچگی یا اس سے متعلقہ پیچیدگیوں میں سے کوئی ہو۔
  7. اگر بالکل ہی کسی اور وجہ سے کسی عورت کا دوران زچگی انتقال ہو جائے
  8. تو اسے ماؤں کی اموات کی مخصوص کیٹیگری میں شامل نہیں کیا جاتا۔

ماؤں کی اموات کے تناسب

ماؤں کی اموات کے تناسب (زچگی کی شرح اموات کا تناسب) کا مطلب ایک سال میں فی ایک لاکھ بچوں کی پیدائش میں ماؤں کی زچگی سے متعلقہ اموات کی تعداد ہے۔ یعنی اگر ایک لاکھ بچے پیدا ہوئے تو ان میں سے کتنے بچوں کی مائیں اس دوران انتقال کر گئیں۔ اسے معلوم کرنے کا فارمولا درج ذیل ہے۔

ایم ایم آر = 1000 × عورتوں میں زچگی سے متعلقہ اموات کی تعداد

کل پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد

مثلا اگر ہمیں ماؤں کی اموات کا تناسب (ایم ایم آر) معلوم کرنا ہو اور ایک سال کے دوران اگر دولاکھ بچے پیدا ہوئے ہوں اور ان واقعات میں اگر ہم فرض کریں کہ 590 ماؤں کی اموات واقع ہوئی ہوں تو اس صورت میں ایم ایم آر  درج ذیل طریقوں سے معلوم کیا جائے گا۔

590 =عورتوں میں زچگی سے متعلقہ اموات کی کل پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد

کل پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد 200000

ایم ایم آر  = 590×100000 200000

=295

اس طرح اس علاقے میں ماؤں کی اموات کا تناسب 295 ہوگا۔ اگر ہم پاکستان اور دنیا میں ماؤں کی اموات کے حوالے سے بات کریں تو 07-2006 کے پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کے مطابق ماؤں کی اموات کی شرح 276 ماؤں کی شرح اموات فی ایک لاکھ ڈیلیوری کیس رپورٹ کی گئی جو بہت زیادہ ہے۔

ماؤں کی اموات کے تناسب

پاپولیشن

پاپولیشن کونسل کے مطابق ابھی بھی یہ شرح 260 اموات تک ہے۔ یعنی 2006 ء سے 2013ء تک اس ضمن میں بہت سے پراجیکٹ ہونے کے باوجود کوئی خاص بہتری نہیں آسکی ۔ اگر دنیا کے حوالے سے دیکھیں تو افریقہ میں یہ اموات انتہائی بلند شرح پر ہیں مگر اس کے علاوہ ورلڈ بینک کے مطابق افغانستان میں یہ شرح 460 ہے جب کہ انڈیا اور بنگلہ دیش میں پاکستان سے قدرے کم بالترتیب 200 اور 240 ہے۔ لیکن چائنہ میں 37 اور سری انکا میں 12 اور فرانس اور آسٹریلیا میں بالترتیب صرف 18 اور 7 ہے۔ اگر پاکستان میں ماؤں کی اموات کی شرح سے اندازہ لگایا جائے تو ہر 90 میں سے ایک ماں اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی بچے پیدا کرنے یازچگی کے عمل سے گزرنے کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتی ہے۔


اموات کا مطالعہ

علم آبادیات میں موت اور شرح اموات اہم عوامل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ماہرین آبادیات کے نزدیک اموات اور پیدائش دونوں کسی بھی معاشرے میں آبادی میں تبدیلی لانے کے بغیادی اسباب ہیں۔ اس لئے ان کی شرح کی پیمائش اعدادوشمار کا تخمینہ لگانا رجحانات کا جائزہ لینا اور منصوبہ بندی کرنے والے افراد کو ان سے آگاہ کرنا ایک ضروری عمل ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں آبادی میں بے پناہ اضافہ کی اصل وجہ بھی شرح اموات کا کم ہو جانا ہے اور شرح پیدائش کا نسبتا زیادہ رہتا ہے۔

اموات کا مطالعہ

شرح پیدائش

  • دراصل یہ سب مختلف بیماریوں جیسے ٹی بی وغیرہ کا علاج معلوم ہونے سے
  • اور صفائی و صحت کی سہولیات بہتر ہو جانے کے سبب ہوا۔
  • کسی زمانے میں یہ بھی سمجھا جاتا تھا
  • کہ مختلف نسلوں اور علاقوں میں شرح اموات کا فرق در اصل  (حیاتیاتی یا جینیاتی) فرق کی وجہ سے ہے
  • یعنی لوگ یہ سمجھتے تھے
  • کہ کچھ علاقے کے یا نسلوں کے لوگوں کی زندگی قدرتی طور پر زیادہ ہوتی ہے
  • اور کچھ کی کم۔ تاہم اب تحقیق سے یہ بات ثابت ہے
  • کہ شرح اموات اور زندگی کی طوالت پر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں
  • جن میں اہم غذا کی فراہمی، صفائی کی صورتحال مختلف ماحولیاتی عناصر
  • جیسے موسم وغیرہ بیماریاں، صحت کی سہولیات کی فراہمی
  • اور رہن سہن کا انداز وغیرہ شامل ہیں

ہم أمید کرتے ہیں آپ کوبچوں میں شرح اموات  کے بارے میں مکمل آگاہی مل گئی ہوگی۔۔۔                

👈🏻مزید معلومات کیلئے ہمارے اس لنک پر کلک کریں

ہماری ویب سائٹ پر آنے کیلئے شکریہ

    MUASHYAAAT.COM

…………….بچوں میں شرح اموات…………….

Leave a comment