محمد بن قا سم کی آمد ⇐ پہلی صدی ہجری کے آخر میں عربوں نے سندھ فتح کیا۔ برصغیر میں اسلامی تعلیمات کا آغاز اسی واقعے سے ہوا۔ نو جوان فاتح محمد بن قاسم نے مساجد تعمیر کرائیں۔ جو عبادت ، تبلیغ اور تعلیم کے اہم مراکز بن گئیں۔
The arrival of Muhammad bin Qasim At the end of the first century AH, the Arabs conquered Sindh. This event marked the beginning of Islamic teachings in the subcontinent. The young conqueror Muhammad bin Qasim built mosques, which became important centers of worship, preaching, and education.
سلطان محمود غزنوی کا عہد
گیارہویں صدی عیسوی میں سلطان محمود غزنوی کی فتوحات سے پنجاب پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہوئی۔ لاہور اس کا صوبائی دارالسلطنت تھا۔ ملتان اور لاہور تعلیم کے اہم مراکز تھے۔ اس عہد میں حکومت کی سرپرستی میں قائم ہونے والے مکتبوں اور مدرسوں کے علاوہ صوفیائے کرام اور بزرگان دین نے علم کی اشاعت اور تعلیم کے فروغ کیلئے قیمتی اور دین نے علم خدمات انجام دیں۔
The era of Sultan Mahmud Ghaznavi
In the 11th century AD, Muslim rule was established over Punjab with the conquests of Sultan Mahmud Ghaznavi. Lahore was his provincial capital. Multan and Lahore were important centers of education. In this era, in addition to the schools and madrasas established under the patronage of the government, Sufis and religious leaders rendered valuable services for the dissemination of knowledge and the promotion of education, and religion contributed to knowledge.
تبلیغ اسلام
ان حضرات نے مختلف اسلامی ملکوں سے نکل کر برصغیر کا رخ کیا تھا۔ حضرت علی ہجویری ( دا تا گنج بخش ) جوسلطان محمود غزنوی کے جانشینی کے عہدمیں لاہور آئے تبلیغ اسلام اور فروغ تعلیم میں سر پرست ہیں۔
Propagating Islam
These men had come from various Islamic countries and headed to the subcontinent. Hazrat Ali Hajveri (Da Ta Ganj Bakhsh), who came to Lahore during the reign of Sultan Mahmud Ghaznavi, is a pioneer in the propagation of Islam and the promotion of education.
بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی
بارہویں صدی کے آخر اور تیرہویں صدی کے اوائل میں شہاب الدین محمد غوری اور اس کے جرنیلوں، قطب الدین ایبک اور بختیار خلجی نے اسلامی فتوحات کا سلسلہ دہلی اور اس کے آگے بنگال تک وسیع کیا۔ دہلی پر اسلامی پر چم بارہ سو تین میں لہرایااور جلد ہی بنگال کی سلطنت بختیار خلجی کے ہاتھ آئی۔
12th and 13th centuries AD
In the late 12th and early 13th centuries, Shahabuddin Muhammad Ghori and his generals, Qutbuddin Aibak and Bakhtiar Khilji, extended the Islamic conquests to Delhi and beyond to Bengal. The Islamic flag was hoisted at Delhi in 1203 and soon the Bengal Empire came under the control of Bakhtiar Khilji.
مدرسوں کی تعمیر و قیام
مسجدوں مکتبوں اور مدرسوں کی تعمیر و قیام ان فتوحات کا لازمی نتیجہ تھا۔ سلطان قطب الدین ایبک ۱۲۰۶ء میں دہلی کے تخت پر بیٹھا۔ اس نے اور اس کے جانشینوں نے ۱۲۹۰ تک دہلی پر حکومت کی۔ انہیں خاندان غلاماں کہا جاتا ہے۔ اس عہد میں تعلیم کو فروغ ملا۔
Construction and Establishment of Madrasas
The construction and establishment of mosques, schools and madrasas was an inevitable result of these conquests. Sultan Qutb-ud-din Aibak ascended the throne of Delhi in 1206. He and his successors ruled Delhi until 1290. They are called the Ghulam dynasty. Education flourished during this period.
علماء کی سے صغیر آمد
اس عہد کی ایک خاص قابل ذکر بات یہ ہے کہ وسط ایشیاء ایران اور عراق وغیرہ کو جب منگولوں نے تباہ و برباد کیا تو سینکڑوں مسلمان علماء اورمعلمین نے برصغیر کی اسلامی سلطنت کے زیر سایہ پناہ لی۔ اس کے نتیجے میں یہاں علم و تعلیم کی مسلسل خدمت کا اہتمام ہوا۔
The arrival of scholars from the subcontinent
A particularly noteworthy aspect of this era is that when Central Asia, Iran, and Iraq were devastated by the Mongols, hundreds of Muslim scholars and teachers sought refuge under the shadow of the Islamic empire of the subcontinent. As a result, continuous service of knowledge and education was organized here.
سلطان غیاث الدین بلبن
سلطان غیاث الدین بلبن اور سلطان علاء الدین خلجی کے ادوار حکومت علماء اور فضلاء کی آمد اور سلطان وقت کی طرف سے ان کی قدر دانی کیلئے مشہور ہیں۔ اس عید کے صوفیائے کرام اور اہل قلم نے تعلیم کے فروغ میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔
Sultan Ghiyasuddin Balban
The reigns of Sultan Ghiyasuddin Balban and Sultan Alauddin Khilji are famous for the arrival of scholars and nobles and their appreciation by the Sultan of the time. The Sufis and writers of this era made valuable contributions to the promotion of education.
سلطان محمد تغلق کا عہد
تعلیم کے بارے میں ایک مورخ مقریزی کی روایت ہے کہ سلطان محمد تغلق کے عہد میں دہلی کے ایک ہزار اسلامی مدارس قائم تھے۔ مدرسین کیلئے شاہی خزانے سے تنخواہیں مقرر تھیں۔ تعلیم اس قدر عام تھی کہ کنیزیں تک حافظ قرآن اور عالم ہوتیں۔ مدارس میں علوم ودینیہ کے ساتھ معقولات اور ریاضی کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔
Sultan Muhammad Tughlaq’s Era
A historian, Muqrezi, has a tradition about education that during the reign of Sultan Muhammad Tughlaq, there were one thousand Islamic schools in Delhi. The teachers were paid salaries from the royal treasury. Education was so common that even the maidservants were Quranic memorizers and scholars. In the schools, along with religious studies, logic and mathematics were also taught.
فیروز شاہ تغلق کا عہد
محمد تغلق کے جانشین فیروز شاہ تغلق کے عہد میں علم وادب کو خاص فروغ حاصل ہوا شعر و شاعری کے علاوہ اس زمانے میں فقہ نے فروغ پایا۔ سنسکرت کی کئی کتابوں کا فارسی میں ترجمہ ہوا۔ فیروز شاہ تغلق کا تعمیر کردہ مدرسہ فیروز شاہی اس عہد کی مشہور جامعہ تھی۔
The Era of Firuz Shah Tughlaq
In the era of Firuz Shah Tughlaq, the successor of Muhammad Tughlaq, science and literature received special development. In addition to poetry, jurisprudence flourished during this period. Many Sanskrit books were translated into Persian. The Firuz Shahi Madrasa built by Firuz Shah Tughlaq was a famous university of that era.
ماہرین علوم
جس میں ماہرین علوم درس دیتے تھے تغلق خاندان کے زوال کے بعد سکندرلودھی نے بھی دل کھول کر تعلیم کی سرپرستی کی۔ طب سکندر ہی اس عہد کی مشہور تصنیف ہے۔
Scholars
In which scholars taught. After the fall of the Tughlaq dynasty, Sikandar Lodhi also generously patronized education. The famous work of Sikandar is the medicine of this era.
عہد مغلیہ میں تعلیمی ترقی
خاندان مغلیہ کابانی ظہیر الدین یابر ایک شستہ اور خوش مذاق انسان تھا۔ تزک بابری ترکی زبان میں اس کی خود نوشت سوانح حیات ہے اس نے ایک قسم کا خط جسے خطا یابری کہتے تھے ایجاد کیا۔ اس نے دہلی میں رصد گاہ تعمیر کرائی اور ایک قسم کا اسطرلاب ایجاد کیا۔
Educational Development in the Mughal Era
Zaheeruddin Yabar, a Mughal scholar, was a clever and humorous man. Tazk-e-Babri is his autobiography in Turkish. He invented a type of script called Khata-e-Yabar. He built an observatory in Delhi and invented a type of astrolabe.
روایات
اس کی بہین گلبدن بیگم نے ہمایوں کے حالات ہمایوں نامہ میں تحریر کیے جلال الدین محمد اکبر کا طویل دور حکومت توسیع مملکت اور مدبرانہ نظم ونسق کے علاوہ وسیع پیمانے پر علوم و فتون کی سرپرستی کیلئے مشہور ہے۔ اس نے وہ روایات قائم کیں جن کی وجہ سے مغلیہ تہذیب و تمدن کو آب و تاب ملی۔
Traditions
His sister Gulbadan Begum wrote about Humayun in the Humayun Nama. Jalaluddin Muhammad Akbar’s long reign is known for his extensive patronage of knowledge and wisdom, as well as his expansion of the empire and his wise administration. He established traditions that gave rise to the Mughal civilization.
دار السلطنت
تالیف ترجمہ مصوری اور موسیقی کو خصوصی عروج اکبر کے ذوق کی وجہ سے ملا۔ اس کےدربار میں تالیف و ترجمہ کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیا کہ دار السلطنت میں ایک طرح کی اکادی قائم ہوگئی۔ جو تپور لاہور سیالکوٹ احمد آباد اور کئی دیگر مراکز میں علوم کی اشاعت بڑی یابا قاعدگی سے ہوئی۔
Dar-ul-Saltan
Compilation, translation, painting and music received a special flourishing due to Akbar’s taste. In his court, such a series of compilations and translations began that a kind of academy was established in Dar-ul-Saltan. In Tapur, Lahore, Sialkot, Ahmedabad and many other centers, the publication of knowledge was carried out with great regularity.
علماء کے وظائف
اکبر کے جانشین مغل شہنشاہوں نے علم کی اشاعت اور تعلیم کے فروغ میں دلچسپی جاری رکھی۔
علماء کے وظائف مدرسوں اور دیگر درسگاہوں کیلئے اوقاف اساتذہ کی تنخواہوں کا نظام قائم ہو ا ہم عصر مورخ ضیاء الدین برنی نے اس عہد کی جو خصوصیات بیان کی ہیں۔
ان میں عام رعایا کی روحانی اخلاقی ترقی کے ساتھ ملک میں بالخصوص دار السلطنت میں ہر علم کے جید عالموں اور کامل ماہروں کی ایک کثیر تعداد بتائی ہے۔
The merits of scholars
- The Mughal emperors who succeeded Akbar continued their interest in the dissemination of knowledge and the promotion of education.
- The merits of scholars A system of salaries for endowment teachers for madrasas and other educational institutions was established. The contemporary historian Ziauddin Burni has described the characteristics of this era.
- Among these are the spiritual and moral development of the common people, and a large number of excellent scholars and perfect experts in every field of knowledge in the country, especially in the capital.
مسلمانوں کا قائم کردہ نظام
مسلمانوں کا قائم کردہ نظام تعلیم انگریزوں کے تسلط تک قائم رہا اور مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم رعایا بھی اس سے فائدہ اٹھاتی رہی۔ اور نگ زیب عالمگیر کے زمانے میں نصاب میں اہم تبدیلی ملا نظام الدین اور ان کے مدرسے کے رفقائے کارنے کی۔ اور نگ زیب نے انہیں لکھنو میں ایک عمارت فرنگی محل کے نام سے عطا کی تھی جس میں مشہور درس نظامیہ قائم ہوا۔ درس نظامیہ میں ایسے مضامین کو اہمیت دی گئی جو سرکاری ملازمت حاصل کرنے کیلئے مفید تھے۔
The system established by Muslims
The education system established by Muslims remained in place until the British rule and besides Muslims, non-Muslim subjects also benefited from it. And during the time of Nagzeb Alamgir, a significant change in the curriculum was made by Nizamuddin and his fellow students of the madrasa. And Nagzeb had given them a building in Lucknow called the Firangi Mahal in which the famous Dars Nizamia was established. In Dars Nizamia, importance was given to such subjects which were useful for getting government jobs.
ہم أمید کرتے ہیں آپ کو “محمد بن قاسم کی آمد” کے بارے میں مکمل آگاہی مل گئی ہوگی۔۔۔
MUASHYAAAT.COM 👈🏻 مزید معلومات کیلئے ہمارے اس لنک پر کلک کریں
ہماری ویب سائٹ پر آنے کیلئےشکریہ




